ویب ڈیسک | انڈس ڈیلی
امریکی فنانسر اور مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق عدالتی دستاویزات کے حالیہ انکشاف کے بعد دنیا بھر میں ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ان دستاویزات کو ”ایپسٹین فائلز“ کا نام دے کر مختلف عالمی شخصیات کے ناموں کو گردش میں لایا جا رہا ہے، تاہم ماہرین اور معتبر میڈیا ادارے ان دعوؤں کے بارے میں احتیاط برتنے پر زور دے رہے ہیں۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق جاری کی گئی فائلز میں ای میلز، رابطوں کی فہرستیں اور سماجی روابط شامل ہیں۔ ان دستاویزات میں کسی فرد کا نام آ جانا خود کسی جرم یا غیر قانونی سرگرمی کا ثبوت نہیں سمجھا جاتا۔ قانونی ماہرین کے مطابق ان فائلز میں شامل کئی نام محض حوالہ، سماجی تعارف یا کسی تیسرے فرد کے بیان کا حصہ ہیں۔
سوشل میڈیا پر بعض پاکستانی سیاسی و سماجی شخصیات کے نام بھی ان فائلز سے جوڑنے کی کوشش کی گئی، تاہم اب تک کسی بھی پاکستانی شخصیت کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت یا عدالتی الزام سامنے نہیں آیا۔ معتبر صحافتی اداروں نے واضح کیا ہے کہ ان دستاویزات میں شامل ناموں کو بغیر تصدیق ”کلائنٹ لسٹ“ یا ”جرم میں ملوث“ قرار دینا گمراہ کن ہے۔
ماہرین کے مطابق ایپسٹین فائلز کے نام پر پھیلنے والی معلومات میں سے بڑی تعداد ادھوری، سیاق سے ہٹی ہوئی یا سراسر افواہوں پر مبنی ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں کسی بھی نام کو بغیر تحقیق شیئر کرنا نہ صرف صحافتی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ یہ کردار کشی کے زمرے میں بھی آ سکتا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ:
“کسی عدالتی دستاویز میں نام آ جانا الزام ثابت نہیں کرتا، جب تک باقاعدہ تحقیقات، شواہد اور عدالتی فیصلے موجود نہ ہوں۔”

Leave a comment