
ایپل (Apple) نے میک (Mac) کمپیوٹرز کی خریداری کے حوالے سے ایک بڑی تبدیلی متعارف کروا دی ہے جس کا صارفین کو کافی عرصے سے انتظار تھا۔
نیوز ویک (Newsweek) کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، ایپل نے اپنی مصنوعات کی لائن اپ میں اہم تبدیلیاں کی ہیں تاکہ صارفین کے لیے خریداری کے عمل کو مزید آسان اور پرکشش بنایا جا سکے۔ اس تبدیلی کے تحت ایپل اب اپنی بیس ماڈل کی ڈیوائسز میں ‘یونیفائیڈ میموری’ (RAM) کی مقدار کو دگنا کر رہا ہے۔
ماضی میں، بہت سے صارفین اس بات سے ناخوش تھے کہ مہنگی ڈیوائسز ہونے کے باوجود ایپل کے بنیادی ماڈلز صرف 8GB ریم کے ساتھ آتے تھے۔ تاہم، اب کمپنی نے فیصلہ کیا ہے کہ نئے میک ماڈلز، بشمول میک بک ایئر (MacBook Air)، اب کم از کم 16GB ریم سے شروع ہوں گے، اور وہ بھی قیمت میں کسی اضافے کے بغیر۔
ایپل کے مداحوں نے اس فیصلے کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے، کیونکہ میموری میں اضافے سے کمپیوٹر کی رفتار اور ملٹی ٹاسکنگ کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم ایپل کے مصنوعی ذہانت کے نئے فیچر ‘ایپل انٹیلیجنس’ (Apple Intelligence) کو بہتر طریقے سے چلانے کے لیے اٹھایا گیا ہے، جس کے لیے زیادہ میموری کی ضرورت ہوتی ہے۔
ٹیکنالوجی کے شوقین افراد کا ماننا ہے کہ اس تبدیلی سے نہ صرف میک کی کارکردگی بڑھے گی بلکہ یہ صارفین کے لیے ان کی رقم کا بہترین نعم البدل بھی ثابت ہوگا۔
Leave a comment