
سپریم کورٹ آف انڈیا میں واٹس ایپ (WhatsApp) اور اس کی اور کمپنی میٹا (Meta) کو ان کی 2021 کی پرائیویسی پالیسی کے بارے میں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جسے عدالت نے صارفین کے لیے ایک “take-it-or-leave-it” یعنی قبول کرو یا چھوڑ دو طرز کی قرار دیا۔ عدالت نے کہا ہے کہ یہ طرز بہت غیر منصفانہ اور صارف کے انتخاب جیسی آزادی کو ختم کرنے والا ہے، جس میں صارف کو اپنے ڈیٹا کے شیئرنگ کے خلاف کوئی حقیقی متبادل نہیں دیا گیا
عدالت نے کہا کہ واٹس ایپ صارفین کی پرائیویسی کے ساتھ کھیل نہیں سکتا اور بھارت میں کسی بھی شہری کے ڈیٹا کی (privacy) کو نقصان نہیں پہنچنے دیا جائے گا
چیف جسٹس نے تنبیہ کی کہ اگر کمپنی ہندوستان کے قوانین کا احترام نہیں کر سکتی تو اسے بھارت چھوڑ دینا چاہیے۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ بہت سے صارف، جیسے غریب عورت یا سڑک کنارے بیچنے والا، پرائیویسی پالیسی کو سمجھ ہی نہیں سکتے، اس لیے یہ پالیسی سمجھ میں آنے والی اور شفاف ہونی چاہیے
یہ سماعت واٹس ایپ اور میٹا کی طرف سے مسابقتی کمیشن آف انڈیا (CCI) کی 213.14 کروڑ روپے جرمانے کی خلاف اپیل سے منسلک ہے، جو پالیسی کے نتیجے میں صارفین کے ڈیٹا کے غیر منصفانہ اشتراک کے خلاف لگایا گیا تھا۔
Leave a comment