تجزیہ ۔ علی شبیر
ایران اور امریکہ کے درمیان صورتحال اب بھی کافی کشیدہ ہے، تاہم جنگی دھمکیوں کے ساتھ ساتھ سفارت کاری کی کوششیں بھی نظر آ رہی ہیں۔
مذاکرات کی بحالی کا اشارہ:
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے آج واشنگٹن کے ساتھ جوہری پروگرام (Nuclear Deal) پر دوبارہ بات چیت شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دی تھی۔
جب کہ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنئی نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ نے کوئی فوجی کارروائی کی تو ایران اس کا “دندان شکن” جواب دے گا اور یہ جنگ پورے خطے میں پھیل جائے گی۔
امریکی بحریہ کا بحری بیڑہ (USS Abraham Lincoln) بدستور عرب سمندر میں موجود ہے۔ امریکہ کا مقصد ایران پر معاشی اور فوجی دباؤ برقرار رکھنا ہے تاکہ وہ نئی شرائط پر سمجھوتہ کرے۔
دوسری طرف ترکی (انقرہ) اس وقت دونوں ممالک کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ آج کی رپورٹس کے مطابق، ترکی میں دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیان غیر رسمی ملاقاتوں کی تیاری کی جا رہی ہے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
فی الحال صورتحال “دیکھو اور انتظار کرو” (Wait and Watch) کی ہے جہاں دونوں طرف سے بیانات سخت ہیں لیکن پس پردہ مذاکرات کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔
عالمی معیشت پر اثر
ایران اور امریکہ کے درمیان اس کشیدگی نے عالمی معیشت، خاص طور پر تیل کی قیمتوں اور اسٹاک مارکیٹ پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔
خلیج فارس اور آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں کشیدگی کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اگر جنگ کی صورتحال بنتی ہے تو دنیا کی 20 فیصد تیل کی سپلائی رک سکتی ہے، جس سے قیمتیں $100 فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہیں۔
فی الحال قیمتیں مستحکم لیکن بلند سطح پر ہیں کیونکہ مارکیٹ کو امید ہے کہ مذاکرات کامیاب ہو جائیں گے۔
غیر یقینی صورتحال میں سرمایہ کار اپنا پیسہ اسٹاک مارکیٹ سے نکال کر سونے میں لگا رہے ہیں، جس کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں بڑھ گئیں تھی لیکن پھر ترکی کی ثالثی کی کوششوں سے اور ڈالر کے مستحکم ہونے سے سونے کی قیمت میں کمی دیکھی گئی ۔
پاکستان پر کیا اثرات ہونگے
اگر عالمی سطح پر تیل مہنگا ہوتا ہے تو پاکستان میں پٹرول اور بجلی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
جب کہ مشرقِ وسطیٰ میں مقیم پاکستانیوں کی ملازمتیں اور وہاں سے آنے والا پیسہ (Remittances) بھی اس کشیدگی سے متاثر ہو سکتا ہے۔
مارکیٹ اس وقت مذاکرات کی خبروں پر نظر جمائے ہوئے ہے۔ اگر ترکی کی ثالثی کامیاب ہوتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں فوری کمی آئے گی، ورنہ مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ سکتا ہے

Leave a comment